Tuesday, 11 November 2014

خیرپور کے قریب ٹریفک حادثہ، ہلاکتیں 58 ہوگئیں

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر خیرپور میں منگل کی صبح ہونے
والے ٹریفک حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 58 تک پہنچ گئی ہے۔
سول ہسپتال خیرپور کے انتظامی اہلکار نعمت اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ حادثے میں زخمی ہونے والے 21 افراد میں سے مزید دو زخمیوں نے دوپہر کو دم توڑ دیا جس سے ہلاک شدگان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ’حادثے میں زخمی اور ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر کا تعلق سوات، باجوڑ پشاور اور کراچی سے ہے۔‘
ان کے مطابق ہلاک شدگان کو غسل دینے اور کفن کے انتظامات کیے جارہے ہیں اور فی الحال کسی میت کو ہسپتال سے منتقل نہیں کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بس کا ڈرائیور بھی حادثے میں ہلاک ہو گیا جبکہ ٹرک ڈرائیور کی حالت بھی تشویشناک ہے اور کل 19 زخمی سول ہسپتال خیرپور میں زیر علاج ہیں۔
اس سے قبل ایم ایس خیر پور ہسپتال نے بتایا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں 18 بچے، 21 خواتین اور 17 مرد شامل ہیں۔
حادثے کے نتیجے میں مسافر بس کو شدید نقصان پہنچا اور امدادی کارکنوں نے بس کا ڈھانچہ کاٹ کر ہلاک شدگان اور زخمیوں کو باہر نکلا
ہائی وے پولیس کے ایس ایس پی کیپٹن ریٹائرڈ فیصل عبداللہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ منگل کی صبح خیر پور کے نزدیک ٹھیٹری بائی پاس پر مسافر بس اور ٹرالر کے درمیان تصادم ہوا۔
انھوں نے کہا کہ پشاور سے کراچی جانے والی مسافر بس مقامی وقت کے مطابق پونے پانچ بجے کے قریب ٹھیٹری بائی پاس پر واقع ایک پیٹرول پمپ سے تیل ڈلوانے کے بعد جیسے ہی سڑک پر آئی تو آنے والے ٹرالر سے ٹکرا گئی۔
انھوں نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق حادثہ بس ڈرائیور کی غفلت کی وجہ سے پیش آیا۔
حادثے کے نتیجے میں مسافر بس کو شدید نقصان پہنچا اور امدادی کارکنوں نے بس کا ڈھانچہ کاٹ کر ہلاک شدگان اور زخمیوں کو باہر نکلا۔
پاکستان کے صدر ممنون حسین نے زخمی ہونے والے افراد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
پاکستان میں ٹریفک حادثات عام ہیں اور ان کی عمومی وجوہات مخدوش سڑکیں، ٹرانسپورٹ کی خراب حالت، ڈرائیوروں کی غفلت، پہاڑی علاقوں میں تیز رفتاری سے گاڑیاں چلانا اور گاڑیوں میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کرنا بتائی جاتی ہیں۔

Saturday, 8 November 2014

اردن کے اسکول پر جنات کے حملے میں 4 طالبات زخمی

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اسکول پر شیطان جنوں کا قبضہ ہے کیونکہ اسکول کے ارد گرد آسب زدہ درخت موجود ہیں

تھرپارکر میں غذائی قلت کے باعث مزید 4 بچے دم توڑ گئے، ہلاکتوں کی تعداد 45 ہوگئی

تھرپارکر: مٹھی میں ایک ہی روز مزید 4 بچے غذائی قلت کے باعث دم توڑ گئے جس کے بعد 39 روز میں ہلاک بچوں کی تعداد 45 ہوگئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق تھرپارکر کی تحصیل مٹھی میں قحط سالی کے باعث کمسن بچوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے اور حکومتی اقدامات کے باوجود غذائی قلت کے شکار بچے کی اموات نہ تھم سکیں، آج بھی مٹھی میں مزید 4 بچے دم توڑ گئے جس کے بعد 39 روز میں مناسب خوراک نہ ملنے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 45 ہوگئی۔
دوسری جانب محکمہ صحت سندھ کا دعویٰ ہے کہ مٹھی سمیت تھرپارکر میں صحت کی تمام سہولیات موجود ہیں اور ترجمان محکمہ صحت نے غذائی قلت کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بتاتے ہوئے کہا ہے کہ یکم نومبر سے اب تک 8 بچوں کی اموات ہوئی جبکہ گزشتہ ماہ اکتوبر میں 5 سال سے کم عمر بچوں کی اموات کی تعداد 26 ہے۔
واضح رہے کہ وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلی سندھ سید قائم علی شاہ اور وزیر خوراک سندھ نے تھر میں قحط سالی کے باعث ہلاکتوں کا نوٹس لیا جس کے باوجود غذائی قلت کی وجہ سے کمسن بچوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ نہ رک سکا۔

سندھ سرکار نے امدادی گندم کے نام پرمٹی سے بھری بوریاں تھر پہنچا دی

تھرپارکر: سندھ سرکار نے امدادی گندم کے نام پر مٹی سے بھری گندم کی بوریاں تھر پہنچا دی جبکہ جوڈیشل مجسٹریٹ مٹھی اور ریلیف انسپکٹر کے گودام پر چھاپے کے دوران مٹی سے بھری 292 بوریاں پکڑی گئیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق مٹھی کے ریلیف گندم گودام میں جامشورو کے بولاڑی گودام سے لائی گئی گندم  کی بوریوں میں سے 292 بوریاں ایسی نکل آئیں جن میں مٹی بھری ہوئی تھی جو کہ غریبوں میں تقسیم کی جانی تھی، اطلاع ملنے پر ریلیف انسپکٹرمیاں سعد ربانی اور جوڈیشل مجسٹریٹ مٹھی نے گودام پر چھاپے دوران مٹی سے بھری 292 بوریاں برآمد کرلیں۔ گودام انچارج کے مطابق 4 نومبر کو جامشورو کے بولاڑی گودام سے گندم کی 4 ہزار 895 بوریاں مٹھی لائی گئی جن میں سے 292 بوریاں مٹی سے بھری ہوئی گندم کی تھی جبکہ اس حوالے سے ڈائریکٹر محکمہ خوراک کو اطلاع کردی گئی تھی اور 2 روز تک بوریوں سے لدے ٹرک گودام کے باہر ہی کھڑے رہے تاہم اعلی حکام کے دباؤ پرمٹی سے بھری بوریوں کو گودام میں رکھ دیا گیا۔
دوسری جانب ایکسپریس نیوز پر خبر چلنے کے بعد ڈپٹی کمشنر تھرپارکر آصف جمیل گودام پہنچ گئے اور ساری ذمہ داری محکمہ خوراک پر ڈالتے ہوئے کہا کہ گندم کی فراہمی کی ذمہ داری محکمہ خوراک کی ہے تاہم خراب گندم کو الگ کرلیا گیا ہے جسے جلد واپس بھجوادیا جائے گا جبکہ صاف گندم مٹھی تحصیل کے 1200 خاندانوں میں تقسیم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کی تحقیقات کے لئے مٹھی گودام پہنچا ہوں اور خراب گندم کے حوالے سے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔

کراچی کے قومی ادارہ صحت برائے اطفال میں بجلی بندش کے باعث انکیوبیٹر میں موجود 4 بچے جاں بحق

کراچی: قومی ادارہ صحت برائے اطفال میں بجلی کی فراہمی معطل ہونے سے آکسیجن نہ ملنے کے باعث انکیوبیٹر میں موجود 4 بچے دم توڑ گئے۔
ایکسپریس نیوز کےمطابق کراچی کے قومی ادارہ صحت برائے اطفال کے ایمرجنسی اور انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں کئی گھنٹے تک بجلی کی فراہمی معطل رہی اور اسپتال انتظامیہ نے ان وارڈز میں موجود بچوں کے لیے کوئی انتظام نہ کیا جس کے باعث انکیوبیٹر میں رکھے بچوں کو آکسیجن نہ ملنے سے وہ دم توڑ گئے۔
اسپتال میں بجلی نہ ہونے کی صورت میں جنریٹر کو متبادل ذریعے کو طور پر استعمال کیا جاتا ہے لیکن جنریٹر سے بجلی کی نارمل سپلائی نہ ہونے سے انکیوبیٹر سمیت دیگر مشینیں بھی بند ہیں جس کے باعث مزید بچوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہےکہ بجلی کی بندش سے کسی بچے کی ہلاکت نہیں ہوئی ہے، اسپتال میں کیبلٹ فالٹ کے باعث بجلی بند ہوئی جس کو ٹھیک کرنے کا کام جاری ہے جبکہ اسپتال میں بجلی نہ ہونے کی صورت میں جنریٹر استعمال کیا جاتا ہے۔
ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ اسپتال کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی جاری ہے اور ہماری طرف سے اس میں کوئی کوتاہی نہیں برتی گئی اس لیے واقعے کی ذمہ داری اسپتال انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ نے اسپتال میں بچوں کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے جبکہ وزیر صحت جام مہتاب کا کہنا ہےکہ اسپتال میں بجلی کا بریک ڈاؤن ہوا تھا جس کے باعث ایک بچے کی ہلاکت ہوئی ہے۔

بھارت میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ٹی شرٹ پہننے پر 10 کمسن بچے باغی قرار

ئی دلی: بھارت میں انتہا پسند ہندو مسلمانوں اور خصوصا  پاکستان سے کس قدر بغض رکھتے ہیں اس کی واضح مثال اتر پردیش پولیس نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی ٹی شرٹ پہننے والے معصوم بچوں کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کر کے دے دی ہے۔
بھارتی میڈٖیا رپورٹس کے مطابق ریاست اتر پردیش کے ضلع کوشی نگر کے گاؤں کلیان چھپڈ چھوٹا میں محرم الحرام کی مناسبت سے نکالے  گئے روایتی ماتمی جلوس میں شریک کچھ بچوں نے پاکستان کرکٹ ٹیم  کی ٹی شرٹ پہن رکھی تھیں کہ پولیس نے  ان کے خلاف قومی وقار کو نقصان پہنچانے اور معاشرے میں انتشار پھیلانے کا الزام لگا کر بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا۔ جن 10 بچوں پر بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا ان کی عمریں10 سے  12 سال کے درمیان ہیں۔
ایس پی کوشی نگر للت کمار نے بچوں کے خلاف بغاوت کے مقدمے کی تصدیق کی ہے تاہم انہوں نے مزید معلومات دینے سے انکار کر دیا۔ دوسری جانب کوشی نگر کی انتظامیہ نے معاملے کو معمولی  قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاملے کو جلد حل کر لیا جائے گا۔
واضح رہے کہ  اس سے قبل جب پاکستان نے بھارت کو 2014 میں ایک روزہ میچ میں شکست دی تھی تو پاکستان کی جیت کا جشن منانے والے درجنوں کشمیری طلباء کو بھارت سرکار نے تعلیمی اداروں سے فارغ کر دیا تھا۔

Thursday, 6 November 2014

(دنیا بھر سے) - بال ایک بار پھر ری پبلیکن کے کورٹ میں

جب بھی امریکہ سے الیکشن کی آواز سنائی دیتی ہے تو پوری دنیا کی نظریں سپر پاور کی جانب ہوجاتی ہے ۔ امریکہ میں صدارتی انتخابات ہوں یا مڈٹرم انتخاب،دنیا کے ہر کونے میں بحث و مباحثہ کا آغاز ہوجاتا ہے کہ ان انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہونے والی پارٹی اپنی نئی پالیسی کا اعلان کرتی ہے جس سے یقینی طور پر پوری دنیا  کی سیاست کسی نہ کسی حد تک ضرورت متاثر ہوتی ہے۔
اس بار بھی امریکہ کے حالیہ مڈٹرم الیکشن بہت اہمیت کے حامل تھے،خاص طور پر اس مڈٹرم الیکشن میں امریکی عوام کا ووٹ امریکی صدر کی پالیسز اور حکومت کی کارکردگی کا جواب کی صورت میں تھا۔ امریکہ کے حالیہ مڈ ٹرم الیکشن میں لاکھوں امریکی شہریوں نے  ووٹ ڈالے اور اپنی اُس رائے کا اظہار کردیا جو حکمراں سننے کے لیے ہرگز تیار نہیں تھے۔
دنیا بھر میں سپر پاور کے حکمراں بارک اوباما پہلے  ہی مقبولیت  کی دور میں بہت پیچھے رہ گئے تھے  مگر اب تو عوام نے وسط مدتی انتخابات میں یہ بھی بتادیا کہ صرف دنیا میں ہی نہیں بلکہ بارک اوبامہ اور اُن کی جماعت تو امریکا میں بھی غیر مقبول ہوتے جارہے ہیں۔
ڈیموکریٹس اور ری پبلیکن کے درمیان ایوان نمائندگان کے435،سینیٹ،اورگورنر کی 36،36 نشستوں کے لئے مقابلہ تھا۔اس وسط مدتی انتخاب  میں مقابلہ اس لئے بھی سخت تھاکیونکہ الیکشن سے پہلے بھی یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ خود امریکی عوام اپنے صدر کی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہیں۔امریکی عوام نے یہ سوچ کر بارک اوباما کو منتخب کیا تھا کہ شاید صدر بش کے مقابلے میں بارک اوباما کی پالیسیز زیادہ بہتر ہونگی لیکن جب امریکی عوام  نے اوبامہ کی شکل میں بھی بش کو دیکھا تو  پھر مایوسی دیکھنے کو ملی جس کا ثبوت ہمیں حالیہ مڈ ٹرم الیکشن کے نتائج سے بھی ملتا ہے  جس میں امریکی عوام نے  8 سال بعد اپنے ووٹ سے ری  پبلکنز کو ڈیموکریٹس پر برتری دلا دی اورایوان نمائندگان اور سینیٹ کے فیصلوں کا اختیار ری  پبلکنز کے ہاتھ میں دے دیا۔
الیکشن میں ری  پبلکنز نے سینیٹ کی 36نشستوں میں سے 22نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور اب اُن کی سینیٹ میں نشستوں کی تعداد 52ہو گئی۔اور ایوان نمائندگان میں بھی ری  پبلکنز نے 435میں سے237نشستوں پر کا میابی حاصل کی۔دوسری جانب ڈیموکریٹس کی اس ناکامی کے بعد اس کی سینیٹ میں نشستوں کی تعداد44اورایوان نمائندگا ن کی تعداد 179رہ گئی۔اس طرح ڈیموکریٹس کو سینیٹ اور ایوان نمائندگان دونوں میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔
کہا جاتا ہے کہ جمہوریت کی بنیاد جمہور ہوتی ہے اور جب جمہور اپنے حکمرانوں کے فیصلے سے ناراض ہوجائیں تو پھر حکمرانوں کے پاس اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے ایک ہی راستہ ہوتا ہے کہ وہ جمہور کی خدمت کو اپنا شعار بنالے وگرنہ وہی ہوتا ہے جو امریکی عوام نے پنا فیصلہ سنا کر امریکی صدر سے تمام فیصلوں کا بدلہ لے لیا۔اب صدر اوباما کو تمام فیصلوں کے لئے اپوزیشن کی رضامندی حاصل کرنا ضروری ہو گی۔پہلے تو امریکی صدر اپنی مرضی سے امریکی کی معاشی،اقتصادی،دفاعی پالیسیز بناتے تھے،لیکن اب کی بار ان کو پالیسز میں ری  پبلکننز کو بھی شامل کرنا ہو گا۔یاد رہے کہ امریکی صدر کے صرف دو ہی سال اب باقی ہیں،لیکن یہ دو سال امریکی صدر کے لئے نہایت مشکل ہیں کیونکہ اب وہ صدر ہو نے کے باوجود بھی اُن اختیارات کے حامل ہیں نہیں  جو ایک صدر کے پاس ہو تے ہیں اور اب اوباما کو دنیا میں اپنی من مانیوں سے ہٹ کر اپوزیشن کے فیصلے پر چلنا ہو گا۔
یہ بات یقینی طور پر قابل ستائش ہے اور شاید ترقی یافتہ ممالک اِسی لیے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہیں کہ وہاں کی عوام کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے ووٹ کے اختیار سے کسی کو بھی حکمرانی کے منصب سے ہٹانے کی قوت رکھتی ہے۔ مگر ، مگر یہ کہ میں اب بھی یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ وہاں ہر بار مقابلہ بس دو جماعتوں کے درمیان ہی ہوتا ہے؟۔ اگر ری پبلیکن سے ناراض ہوئے تو نظر ڈیموکریٹس کی طرف اور اگر ناراضگی ڈیموکریٹس سے ہوئی تو پھر نظر ری پبلیکن کی طرف۔ بس یہ ایک چورنگی ہے جس کے گرد وہاں کی عوام گھومتی رہتی ہے ۔  اور اِس بار بھی بالکل ایسا ہی ہوا ، جو ری پبلیکن سے مایوسی کے بعد امید ڈیمورکیٹس سے لگی مگر دوبارہ مایوسی کے بعد پھر ری پبلیکن کو اُمیدوں بھری نظروں سے دیکھا جارہا ہے اب دیکھتے ہیں کہ اِس بار عوام کی سنی جاتی ہے یا نہیں ۔ ویسے یہی کچھ پاکستان میں بھی ہوتا ہے بس پاکستان اور امریکا کے انتخاب میں ایک فرق ہے کہ وہاں انتخاب کے بعد دھاندلی کا الزام نہیں لگتا جب کہ یہاں ایسا ممکن نہیں کہ انتخاب کے بعد دھاندلی کا الزام نہ لگے کیونکہ اِس بار تو امریکی عوام کو بھی وہ مسائل دیکھنے پڑے جو ہر انتخابات میں ہم دیکھتے ہیں جیسے کہیں عوام کو ووٹینگ کی الیکڑونک مشین خراب ملیں، تو کہیں بجلی کے نہ ہونے سے موجود مشین استعمال میں نہیں تھیں، کہیں عملہ نہیں تھا  تو کہیں رجسڑڈ ووٹرز کی تصدیق نہیں ہو رہی تھی۔

Tuesday, 4 November 2014

Wahga Border


Popular Posts

Recent Posts

Pages

Download Theme

tabber

sideCategory2

Recent Posts

ads2

Download

Contact Us

Name

Email *

Message *

Catwidget2

Catwidget1

Catwidget4

Catwidget3

topads

feature content slider

Content left

Content right

Content left

Powered by Blogger.

sideCategory1

Content left

Content right

Content right