Wednesday, 10 December 2014

Earn Money Online for Free (Just work 5 mints daily)


Earn Money Online for free. just register and view 16 adds daily and get instent mony
Click Here to Register

Thursday, 4 December 2014

گنگنم سٹائل نے یو ٹیوب کی حدیں توڑ دیں


جنوبی کوریا کے گلوکار سائی کی میوزک ویڈیو ’گنگنم سٹائل‘ نے یو ٹیوب پر ویوز کی حدیں توڑ دیں جس کی وجہ سے گوگل کو ویب سائٹ اپ گریڈ کرنا پڑ گئی۔
یو ٹیوب کا کہنا ہے کہ یہ دنیا کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی وڈیو ہے اور اسے دو ارب سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔
ویب سائٹ نے اب اپنی زیادہ سے زیادہ ویوز کی حد نو ’کونٹیلین‘ یعنی نو کروڑ کھرب (9,223,372,036,854,775,808) سے زائد رکھی ہے۔
سنہ 2012 میں لانچ ہونے کے بعد گنگنم سٹائل دنیا کی مقبول ترین وڈیو بن گئی ہے، اس کی بڑی وجہ اس وڈیو کا غیر حقیقی انداز ہے۔
یو ٹیوب کے ویوز کی گنتی کرنے والا کاؤنٹر پہلے 32 بِٹ کے ہندسے استعمال کرتا تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ زیادہ سے زیادہ 2,147,483,647 تک گنتی کر سکتا تھا۔
یکم دسمبر کو یو ٹیوب نے ایک بیان جاری کیا جس میں اس نے کہا کہ ’ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ 32 بِٹ کے انٹیجر سے بھی زیادہ تعداد میں کوئی وڈیو دیکھی جائے گی۔ لیکن تب گلوکار سائی منظر عام پر نہیں آئے تھے۔‘
یو ٹیوب کی مالک کمپنی گوگل نے ویب سائٹ ’دا ورج‘ کو بتایا کہ انجینیئروں کو ’دو ماہ قبل پتہ چل گیا تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے، اسی لیے انھوں نے یو ٹیوب کی ویب سائٹ کے سسٹم کو اپ ڈیٹ کر دیا تھا، تاکہ آئندہ کے لیے تیاری ہو سکے۔‘
یو ٹیوب اب اپنے وڈیو کاؤنٹر کے لیے 64 بٹ کا انٹیجر استعمال کرتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اب ویوز کی گنتی 9.2 کونٹیلین تک جائے گی۔
سائی نے اب تک اس سلسلے سے متعلق کوئی بیان نہیں جاری کیا ہے لیکن یوٹیوب کی اس تبدیلی کی خبر ان کے فیس بک اور ٹوئٹر کے اکاؤنٹوں پر پوسٹ کی گئی تھی۔
یو ٹیوب پر دنیا کی دوسری سب سے دیکھی جانے والی وڈیو جسٹن بیبر کی ’بے بی‘ ہے، جو گنگنم سٹائل سے ایک ارب کم مرتبہ دیکھی گئی ہے۔

بھارت میں 4 ہاتھ اور4 پاؤں والے عجیب الخلقت بچے کی پیدائش


ولکتہ: بھارت میں چار ٹانگوں اورچار ہاتھوں کے ساتھ پیدا ہونے والا حیرت انگیز بچہ ہزاروں لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا جب کہ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ جڑواں بچے ہی ہیں جو کسی ایک بچے کے جسم کے نہ بڑھنے کے باعث ایک ہی بچے کی طرح نظر آرہا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق  ریاست مشرقی بنگال کے علاقے باروئی پور میں خاتون نے  ایسے بچے کو جنم دیا  جس کے چار ہاتھ اور چار ٹانگیں ہیں، اس عجیب الخلقت بچے کی پیدائش کی  خبر جنگل کی آگ کی طرح پوری ریاست میں پھیل گئی اوردیکھتے ہی دیکھتے لوگ اس بچے کو دیکھنے کے لیے امڈ پڑے جب کہ بعض ہندو اسے اپنے دیوتا براہما کا بیٹا قرار دے رہے ہیں کیونکہ ہندووں کا عقیدہ ہے کہ اس کی بھی چار ٹانگیں اور چار ہاتھ تھے جب کہ ؤولیس کا کہنا ہے کہ لوگ اتنی بڑی تعداد میں یہاں کا رخ کر رہے ہیں کہ انہیں کنٹرول کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
 دوسری جانب ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ دراصل جڑواں بچے تھے جو ماں کے رحم میں الگ نہ ہوسکے اور ان کے جسم اس طرح جڑ گئے کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایک ہی بچے کے چار ہاتھ اور پاوں ہیں اسے میڈیکل کی زبان میں ’’پیراسٹک ٹوئن‘‘ کہا جاتا ہے۔
بچے کے والدین کا کہنا تھا کہ وہ گھر میں آنے والے نئے مہمان کی آمد پر خوش ہیں اور یہ فطری  بات ہے کہ لوگ اس معجزانہ شکل والے بچے کو دیکھنے کے لیے آئیں گے۔

مصر کے 86 سالہ بوڑھے کو نوجوان لڑکی سے عشق لڑانا مہنگا پڑگیا


قاہرہ: مصر میں 86 سالہ بوڑھے شخص کو 19 سالہ دوشیزہ سے عشق لڑانا اس وقت مہنگا پڑ گیا جب اس کی اہلیہ نے عدالت سے رجوع کرکے شوہر سے علیحدگی اختیار کرلی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصر کی 78 سالہ خاتون نے عدالت میں اپنے 86 سالہ شریک حیات کے خلاف دائر درخواست میں مؤقف اختیارکیا کہ اس کا شوہر  19 سالہ لڑکی کی زلفوں کا اسیر ہوکر غیر اخلاقی حرکات کا مرتکب بھی ہو رہا ہے اور اس کی یہ غیر اخلاقی حرکات علاقے میں ان کے خاندان کی بدنامی کا باعث بن رہی ہیں۔
خاتون نے عدالت کو بتایا  کہ اس کا شوہر جس لڑکی کا پیچھا کرتا ہے وہ اس کی پوتیوں کے برابر ہے جب کہ اس لڑکی کے والد کی پرورش بھی انہوں نے ہی کی ہے، میں  نے اپنے شوہر کو متعدد بار نوجوان لڑکی کا پیچھا کرنے سے روکا تاہم وہ باز نہیں آیا اور اب اس کے ساتھ مزید زندگی گزانا نہیں چاہتی لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ وہ ہمارے  درمیان علیحدگی کا فیصلہ صادر فرمائے۔

دھرنوں سے ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے چاہے کچھ بھی ہو نظام کو خطرہ نہیں ہونا چاہئے، پرویزمشرف


کراچی: سابق صدر پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ دھرنوں سے  ملک کو نقصان ہورہا ہے اور سب اپنی سیاست چمکا رہے ہیں لیکن ملک میں کچھ بھی ہو نظام کو خطرہ نہیں ہونا چاہئے۔
کراچی میں یوتھ پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر پرویز مشرف نے کہا کہ ہمارا وجود بھارت کے لیڈروں کو پسند نہیں تھا جس کی بنا پر کشمیر کا مسئلہ شروع ہوا، ہمارے وجود کو 1947 سے ہی خطرہ تھا جس کے باعث پہلے 30 سالوں میں ہی تین جنگیں لڑی گئیں جب کہ مغربی سرحد سے بھی 50 اور 60 کی دہائی سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں  شروع ہوئیں جو اب بھی جاری ہیں، افغانستان میں سوویت یونین کی جارحیت کے باعث ہمیں اپنی فورسز بڑھانی پڑیں کیونکہ ہمارے  مفاد میں تھا کہ سوویت یونین کو افغانستان سےنکالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ  ہمیں اپنی معیشت کو ٹھیک کرنا ہوگا اس کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کرے گا لیکن ملک میں کسی بھی جمہوری حکومت نے معیشت کی بہتری  کے لیے کوئی کام نہیں کیا صرف فوجیوں نے ہی ملکی معیشت کے لیے کام کیا۔
سابق صدر نے کہا کہ بلوچستان میں مغربی سرحد پر شورش کوئی نئی بات نہیں جب کہ خیبرپختونخوا میں القاعدہ اور طالبان ہیں اور بلوچستان میں مذہبی و علیحدگی پسند گروپ، ہمیں سب سے پہلے مستحکم اور مضبوط پاکستان بنانا ہے جس کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے، عالمی برادری خصوصاً مسلم ممالک میں پاکستان کا اہم کردار ہونا چاہئے، پاکستان کمزور ملک نہیں اسے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوکر دنیا میں مقام حاصل کرنا چاہئے ملکی مسائل کا حل مختصر مدت  نہیں بلکہ طویل مدتی پالیسیوں میں ہے اور کوئی بھی نظام چیک اینڈ بیلنس کے بغیر نہیں چل سکتا نہ ہی اس کے بغیر کوئی حکومت چل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم میں مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت ہے اور پاکستان کے پاس تمام صلاحیتیں ہیں اسے کسی سے کچھ مانگنے کی ضرورت نہیں ہے ہم آگے بڑھتی ہوئی قوم کے طور پر سامنے آسکتے ہیں۔
پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ امریکا اور مغربی ممالک نے تین بڑی غلطیاں کیں جس کے باعث خطہ اب تک عدم استحکام کا شکار ہے جس میں امریکا کی پہلی غلطی تھی کہ افغانستان میں موجود جنگجوؤں کو نہیں بسایا گیا جس کےباعث وہاں القاعدہ اور دوسرے جنگجو بنے، امریکا کی دوسری غلطی طالبان کو تسلیم نہ کرنا تھا جس پر نائن الیون کا واقعہ رونما ہوا جب کہ اس کی تیسری غلطی افغانستان سے نکلنا تھا۔

Popular Posts

Recent Posts

Pages

Download Theme

tabber

sideCategory2

Recent Posts

ads2

Download

Contact Us

Name

Email *

Message *

Catwidget2

Catwidget1

Catwidget4

Catwidget3

topads

feature content slider

Content left

Content right

Content left

Powered by Blogger.

sideCategory1

Content left

Content right

Content right